Dead Or Alive?

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک گاؤں میں ایک کسان ہوتا تھا۔ اس کی دو بیٹیاں تھیں ۔ بڑی بیٹی سات سال کی اور چھوٹی بیٹی چھ سال کی۔ چھوٹی بیٹی بے حد ذہین تھی اور ہر وقت کسان سے سوال کرتی رہتی تھی۔ کسان ان کا جواب دینے کی حتی المقدور کوشش کرتا تھا کم علمی کی وجہ سے بہت جلد اس کو ادراک ہوگیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کے سوالوں کے تسلی بخش جواب نہیں دے پا رہا۔
گاؤں کے پاس پہاڑ پر ایک بوڑھا مگردانا آدمی رہتا تھا ۔ کسان نے سوچا وہ اپنی بیٹیوں کو اس کے پاس بھیج دیاکرے گاتاکہ وہ اپنے ہر سوال کا جواب حاصل کر سکیں۔
اس نے اپنی دونوں بچیوں کو دانا آدمی کے پاس بھیجنا شروع کر دیا۔ دونوں بچیاں بوڑھے آدمی سے بھی ہر وقت اسی طرح نت نئے سوال کرنے لگیں، جس طرح وہ اپنے باپ سے کیا کرتی تھیں اور پھر اس کی پریشانی یا لاجواب ہونے سے لطف اندوزہوا کرتی تھیں۔
لیکن کچھ ہی دنوں میں انہیںاندازہ ہو گیا کہ وہ اس دانا آدمی کو زچ نہیں کر سکتیں، کیونکہ اس کے پاس ان کے ہر سوال کا جواب ہوتا تھا ۔ دانا آدمی کے علم اور عقل نے ان دونوں کو لاجواب کرنا شروع کر دیا۔ کئی ہفتے یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا ۔ یہاں تک کہ دانا آدمی بھی بھانپ گیا کہ وہ دونوں بچیاں اب ایک ایسے سوال کی تلاش میں ہیں ،جس کا جواب اس کے پاس بھی نہ ہو۔ دانائی اور بچپن ایک دوسرے کو جیسے مات دینے کی جدوجہد میں لگے تھے۔
ایک دن پہاڑ کے دامن میں کھیلتے ہوئے چھوٹی بہن نے ایک تتلی پکڑی اور جیسے اسے بالا آخروہ سوال مل گیا جس کا جواب دانائی کو یکسر چت کرنے والا تھا۔ اس نے بڑی بہن سے کہا ”میری بند مٹھی میں ایک تتلی ہے میں دانا سے پوچھوں گی کہ میرے ہاتھوں میں کیا ہے…..وہ یقینا یہ بوجھ جائے گا کہ میرے ہاتھوں میں تتلی ہے۔ پھر میں اس سے پوچھوں گی ….زندہ یا مردہ …؟ …..اگر وہ کہے گا زندہ تو ،میں دونوں ہاتھوں کو اسی طرح مٹھی کی شکل میں رگڑ کر تتلی کو مسل دوں گی اور دانا سے کہوں گی کہ تتلی تو مردہ ہے اور اس کا جواب غلط ہے… اگر اس نے کہا کہ تتلی مردہ ہے تو میں اپنی مٹھی کھول کر تتلی اڑا دوں گی اور اس سے کہوں گی کہ تتلی تو زندہ ہے…اس کا جواب غلط ہے۔”
دونوں بہنیں بے حد اعتمادکے ساتھ اور خوش خوش دانا آدمی کے پاس گئیں ۔ چھوٹی نے دونوں ہاتھوں کی بھینچی ہوئی مٹھی دکھاتے ہوئے اس سے پوچھا ” میری مٹھی میں کیا ہے؟ ” دانا آدمی نے چند لمحے مٹھی کو غور سے دیکھا اور کہا ”تتلی” چھوٹی بہن نے مسکراتے ہوئے بڑی بہن کو دیکھا یوں جیسے اسے جتایا ہو ۔ پھر اس نے دانا آدمی کو دیکھتے ہوئے اگلا سوال کیا”زندہ یا مردہ؟” دانا آدمی نے اس بار اس کی مٹھی کو نہیں اس کے چہرے کو غور سے پڑھا۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ بچپنا اپنے سوال کاصحیح جواب لینے اس کے پاس نہیں آیا…. بچپنااسے غلط ثابت کرنے کی خواہش کے ساتھ اس کے پاس آیا ہے۔ وہ جان گیا کہ وہ اس کے کس جواب پر کیا کرنے والی ہے ۔
”زندہ یا مردہ؟” چھوٹی لڑکی کو دانا آدمی کو اس طرح گہری سوچ میں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اس نے سوال دہرایا…. ”Dead Or Alive’’ دانا آدمی مسکرایا اور پھر اس نے کہا ‘‘It’sin your hand” (اس کی زندگی یا موت تمہارے ہاتھ میں ہے)
چھوٹی لڑکی نے جیسے ہار مانتے ہوئے دانا آدمی کو مسکرا کر دیکھا۔ وہ دانائی کو اس بار بھی لاجواب نہیں کر سکی تھی۔
میں ہمیشہ ٹیچرز ٹریننگ کے لیے اپنی ورکشاپ کے پہلے سیشن کا آغاز اس چھوٹی سی کہانی سے کرتی ہوں ۔ وہاں میرا مقصد انہیں اس ورکشاپ کا بہترین استعمال کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا ہوتا ہے۔ یہاں اس کہانی کو آپ سے شیئر کرنے کا مقصد اس پروجیکٹ کے لیے آپ کو تیار کرنا ہے جو ”گرمیوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی نیکیاں” کے حوالے سے ہم بہت ہی چھوٹے پیمانے پر اس سال شروع کر رہے ہیں۔
ہم اپنی زندگی کو کس طرح جینا اور گزارنا چاہتے ہیں، وہ مکمل طور پر ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم زندگی صرف اور صرف اپنے لیے جینا چاہتے ہیں یا ہم اپنی زندگی دوسروں کے ساتھ مل کر جینا چاہتے ہیں….اختیار اور انتخاب دونوں ہمارے پاس ہے۔ ہم وہ بوڑھا آدمی بننا چاہتے ہیں جو آنے والی نسلوں کو پھل کھلانے کے لیے پیڑ لگاتا ہے یا اپنے سامنے صرف وہ پھل چاہتے ہیں جس سے ہم لطف اندوز ہو سکیں…کوئی زبردستی نہیں…..Dead Or Alive…ہم جیسے بھی چاہیں جی سکتے ہیں لیکن زندہ ہوتے ہوئے مردہ بن کر رہنا ہمیں انسان کے درجے سے جانور کی حیثیت میں لے جاتا ہے۔ اپنے لیے جینا، اپنا رزق، اپنا لباس ، اپنی ا سائش ، اپنا آرام ، اپنی ترقی…..ہم مادیت کے اس دائرے میں گھومتے گھومتے ایک وقت آنے پر صرف بظاہر انسان رہ جاتے ہیں….انسان ہوتے نہیں اور پھر لاکھ ہاتھ پاؤں مارنے پر بھی ہم اپنے جسم کے اندر موجود دل میں انسانیت ، رحم ، ہمدردی ، بھائی چارہ ، خلوص ، جیسے جذبات اور اوصاف کو ابھارنے میںنا کام رہتے ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح ECG ایک مردہ شخص کی دل کی دھڑکن ڈھونڈنے میں ناکام رہتا ہے….تو میں نے کہا نا انتخاب ہمارے پاس ہے، ہم اپنی زندگی کے پچاس ساٹھ سال کے ایک ایک دن کے ایک ایک گھنٹے کو صرف اور صرف اپنے اور اپنی فیملی کے لیے ہلکان رہ کربھی گزار سکتے ہیں….یا ان پچاس ساٹھ سالوں کے کچھ مہینے اس دنیا سے جانے سے پہلے چند لوگوں کی زندگی میں آرام اور امید نام کے دو لفظوں کا اضافہ کر کے جائیں۔
پاکستان جیسے مسائل کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے ملک میں چندے جمع کرنے ، فیس بک پر ملامتیں اور مذمتیں کرنے ، TV ٹاک شوز دیکھ دیکھ کر اپنا خون جلانے اور یہ سوچ سوچ کر خود ترسی اور ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا کوئی فائدہ نہیں کہ ”میں اچھا ہوں اور میرے ارد گرد سب کچھ خراب اور قابل اصلاح ہے۔ ”…… اگر مجھے اپنا سسٹم ناکام اور کرپٹ نظر آرہا ہے اور سب کچھ خراب لگ رہا ہے اپنی ذات کے علاوہ ….. تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سسٹم ناکام نہیں ہے میں (فرد) ناکام ہو رہا ہوں،کیونکہ میں بے حس ہوں …..میں بھی اچھا نہیں ہوں اور اس ملک کی تباہی اور بربادی کا تھوڑاسا حصہ میرا بھی ہے۔
ہم جانتے ہیں بہت تھوڑے سے لوگ اس پروجیکٹ میںہمارے ساتھی بنیں گے…..تبدیلی کا آغاز کرنے والے ہمیشہ تھوڑے سے لوگ ہی ہوتے ہیں اور وہی leaders ہوتے ہیں باقی followers ہوتے ہیں….. اور ہمیشہ followers دیر سے ملتے ہیں۔
ہم گرمیوں کے ان دو تین مہینوں میں کیا کیا کر سکتے ہیں ؟ ….. بہت کچھ۔
ہم اگر کئی ہفتوں کا کوئی پروجیکٹ شروع نہیں کر سکتے تو چند دن یا چند گھنٹے کسی نہ کسی فلاحی کام پر ضرور لگا سکتے ہیں۔
١۔ ہم اپنے محلے یا علاقے کی مسجد میں امام صاحب کے تعاون سے نوجوان لوگوں کے لیے ہفتہ وار یا روزانہ کیریئر کونسلنگ ، حفظان صحت ، ڈرگز کے نقصانات ، میڈیا کے مضر اثرات اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی اہمیت جیسے معاملات پر لیکچرز کا انعقاد کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ہمیں اپنی public speaking اور presentation skills کو بہتر کرنے کا موقع ملے گا جو آجکل ہر جاب اور انٹرن شپ کا ایک بنیادی جزو ہے، بلکہ ہم مساجد کے ماحول کو بہتر کر کے اپنے محلے اور علاقے کے نوجوانوں کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ اگر مسجد میں کوئی مدرسہ کام کر رہا ہے توہم ان کے طلبا کے لیے بھی ان معلوماتی لیکچرز کا انعقاد کر سکتے ہیں ۔ ہم ان طلبا کو کمپیوٹر کے کچھ تعارفی کورسز کروا سکتے ہیں اورد ینی تعلیم کے حوالے سے ان کے ساتھ اہم اور مفید انٹریکشن کر سکتے ہیں۔
٢۔ ہفتہ میں ایک بار ہم کسی سرکاری ہاسپٹل میں وہاں کی انتظامیہ سے اجازت لینے کے بعد OPD میں رضاکارانہ اپنی خدمات دے سکتے ہیں۔ دیہات اور دوردراز کے علاقوں سے آنے والے غریب اور کم معلومات رکھنے والے مریضوں کو متعلقہ ڈاکٹر اور چیک اپ کے معاملات سے مطلع کر سکتے ہیں۔ میں اپنی زندگی میں ایک آدھ بار یہ کام کر چکی ہوں اور میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ ایک دن ہاسپٹل میں ایک رضاکار کے طور پر دھکے کھانے والے مریضوں کی مدد کے بعد آپ اﷲ تعالی کی بہت سی نعمتوں کی قدر کرنے لگیں گے۔
٣۔ آپ اپنے شہر کی جیل کی لائبریری کے لیے کتابیں عطیہ کر سکتے ہیں اپنے دوستوں اور عزیزواقارب کے گھر کی ردی کی مدد سے ….. جیل میں بیٹھا ہر شخص نہ تو مجرم ہوتا ہے اور نہ ہی قابل نفرت….. بہت سے وہاں صرف برے نظام کی وجہ سے پہنچتے ہیں…. جیل میں قیدیوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم بھی حاصل کر رہی ہوتی ہے۔ اور ان کے پاس نصابی کتابوں کے علاوہ کوئی resource material نہیں ہوتا۔ کیا پتہ ہماری بھیجی ہوئی کتابوں اور میگزینز میں لکھا کوئی لفظ وہاں بیٹھے کسی شخص اور اس کے خاندان کی زندگی سنوار دے۔
٤۔ آپ ایک گروپ بنا کر کسی سرکاری سکول کی لا ئبریری ایک سال کے لیے adopt کر سکتے ہیں ۔ ایک مہینے میں دس ممبرز کے گروپ کا صرف ایک ممبر بھی وہاں کا ایک چکر لگا آئے تو سال میں ہر ممبر کو ایک دو سے زیادہ چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ دس ممبرز کا گروپ اپنے خاندان اور حلقہ احباب کے وسائل سے نہ صرف اس لائبریری کو فنکشنل اور مفید بنا سکتے ہیں بلکہ جب بھی اس ا سکول میں جائیں تو وہ مختلف کلاسز میں جا کر مطالعہ کی اہمیت اور لائبریری کے استعمال کی ضرورت پر بچوں کے ساتھ بات بھی کر سکتے ہیں۔
٥۔ آپ کسی اولڈ پیپلز ہوم میں چند دنوں کے لیے بوڑھے لوگوں کے مدد گار کے طور پر کام کر سکتے ہیں….. یہ تجربہ ہمیں کچھ اور سکھائے نہ سکھائے اپنے والدین کی عزت اور اپنے بڑھاپے کے لیے ہمیں تیار ضرور کر دے گا۔
٦۔ آپ اپنی یونیورسٹی اور کالج میںموجود کام کرنے والے بچوں کے لیے ایک پارٹ ٹائم ا سکول کا انتظام کر سکتے ہیں ،اور کالج اور یونیورسٹی کی انتظامیہ کی مدد سے اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ کم از کم چراغ تلے اندھیرا نہ ہو یعنی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے ننھے بچے خود تعلیم سے محروم نہ ہوں۔ یہ سب سے آسان کام ہو گا وسائل کے حساب سے کیونکہ آپ اسی یونیورسٹی اور کالج کے کمرے اور سہولیات کو وہیں پڑھنے والے اسٹوڈنٹس کی مدد سے استعمال کرتے ہوئے تعلیم کے فروغ کے لیے کام کر سکتے ہیں۔
٧۔ آپ میںسے وہ لوگ جن کے ماں باپ یا خاندان کے بڑوں کا تعلق دیہاتی علاقہ سے ہے لیکن وہ خود کبھی وہاں نہیں گئے۔ وہ ان چھٹیوں میں اپنے دیہات کا دورہ کر سکتے ہیں ۔ اگر وہ علاقے بہت پسماندہ ہیں تو آپ وہاں کی مسجد،ا سکول اور ڈسپنسری کو سپورٹ کر سکتے ہیں۔ وہاں اسی طرح چھوٹے چھوٹے لیکچرز کا انعقاد کر سکتے ہیں اور کچھ نہیں تو خواتین اور بچوں کو صحت کے حوالے سے بہت کچھ بتا سکتے ہیں۔
٨۔ آپ ان چھٹیوں میں اپنے گھر میں کام کرنے والے نوکر کے بچوں کو ان کی تعلیم میں مدد کر سکتے ہیں ….ایک additional support کے طور پر ….. یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے گھر میں کام کرنے والے ہر نوکر کے چھوٹے بچوں کوا سکول بھجوائیں…. ہر مہینے چند سو روپے سے ہم اس نوکر کی اگلی نسل کو ایک بہتر مستقبل دے سکتے ہیں….. اگر وہ بچے نو عمر ہیں اورا سکول چھوڑ چکے ہیں تو ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ان کو کہیں نہ کہیں سے کوئی ہنر یا skill سکھانے کی کوشش کریں ،تاکہ اپنا رزق کام کر کے کمائیں،سڑکوں پر موبائل چھین کر نہیں۔ یاد رکھیں اگر ہمارے نوکروں کے بچے صرف پیسے کی کمی کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے تو ہم مجرم ہیں اور قیامت کے دن اﷲ تعالی ہم سے اس کا حساب لے گا۔

ان کمام کاموں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ ان ساری چیزوں سے پاکستان نہیں بدلے گا لیکن ہم خود کسی نہ کسی حد تک ضرور بدلیں گے۔ آج دو لوگ ہوں گے پھر دو سو ہوں گے اور پھر دو ہزار…… دو لاکھ….دو کروڑ….پھر سارا پاکستان….آپ چاہیں تو اسے خیالی پلاؤ کہہ لیں… دن کا خواب… یا دیوانے کی بڑ….میں اسے possibility کہتی ہوں…..امکان……امید ۔۔۔۔وہ جس پر ہمارا دین کھڑا ہے۔
تو آیئے اس سال اپنے رونا رونے کی بجائے کسی اور کے آنسو پونچھیں۔

!!! ہم نے مسجد کے مینار کاکرنا کیا ہے؟

رات کے پچھلے پہر میری آنکھ ہمیشہ کی طرح مسجد سے بلند ہوتی ہوئی ا’سی آواز سے کھلی تھی۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب فجر کی آزان سے کچھ پہلے وہ ہمیشہ کی طرح لاؤڈ سپیکر پر نعت پڑھ رہا تھا۔
میں لج پالاں دے لڑ لگیاں
میرے توں غم پرے ریندے
میری آساں ا’میداں دے
سدا بوٹے ہرے ریندے
میں اپنے بستر میں لیٹی ہمیشہ کی طرح وہ آواز سنتی رہی جو رات کے سنّاٹے اور میرے کمرے کی تاریکی کے ساتھ ساتھ میری نیند کو بھی توڑ رہی تھی ۔ آواز بھاری، خوبصورت اور نعت کی ادائیگی ہمیشہ کی طرح پر سوز اور پر اثر تھی۔ اس بار وہ کئی ہفتوں کے بعد نعت پڑھ رہا تھا اس کے باوجود میری آنکھ جیسے میکانکی انداز میں اُس آواز کو سنتے ہی کھل گئی تھی ہمیشہ ہی کھل جاتی تھی۔ پھر میں بہت دیر تک بستر میں لیٹے بقیہ نعت یا حمد سنتی رہتی تھی۔ اور یہ کام میں نوعمری سے کر رہی تھی۔ اس علاقے میں مختلف فرقوں کی دو تین مساجد ہیں اور میں نہیں جانتی وہ آدمی کس مسجد میں نعتیں پڑھتا ہے۔ لیکن میں پھر بھی دن یا رات کے کسی وقت بھی لاؤڈ سپیکر پر اُس کی آواز شناخت کر سکتی ہوں۔ وہ آدمی یقینا اب عمر کے آخری حصّے میں ہو گاکیونکہ اب ا’س کی آواز بہت زیادہ کانپتی اور سانس بار بار ٹوٹتا ہے۔ اب وہ نعت بھی مختصر پڑھتا ہے۔ شائد زیادہ دیر کھڑا رہنا یا بیٹھا رہنا ا’س کے لیے مشکل ہے۔ اتنے سالوں میں اُس کی آواز میںکمزوری اور کپکپاہٹ آگئی ہے۔ اگر کچھ کم نہیں ہوا تو وہ تاثیر ہے اور سوز ہے اور اُس کی نیت کا اخلاص جس کے ساتھ وہ رات کے پچھلے پہر مسجد تک آتا ہے۔ میں نہیں جانتی وہ کوئی مولوی ہے یا کوئی عام دیندار آدمی جو مسجد کو اُسی طرح آباد رکھنے کی کوشش کر رہا ہے جس طرح اُس نے اپنے باپ دادا کو آباد رکھتے دیکھا ہو گا۔ میں مسجدکے لاؤڈ سپیکر کے بے جا استعمال کو شدید ناپسند کرنے کے باوجود تہجّد کے وقت مسجد سے گونجتی اس آواز کو بھی ناپسند نہیں کر سکی۔ وہ شائد پاکستان کی اُس آخری نسل کا نمائندہ ہے جو رات کے پچھلے پہر بھی مسجد میں جاتے ہیں۔
میں نے اپنے بچپن سے اس علاقے کی مساجد میں تہجّد اور فجر کی اذان کے درمیانی وقت لوگوں اور بچوں کو نعتیں پڑھتے سنا ہے۔ یہ ایک معمول تھا کوئی اس پر غور نہیں کرتا تھا۔ ٢٠ سال میں بہت کچھ بدل گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تہجّد اور فجر کا درمیانی وقت بھی ”خاموش” ہوتا گیا۔ مسجد میں نوت پڑھنے کے لیے جانے والے آہستہ آہستہ اس د’نیا سے جانے لگے یا پھر ا’ن کی ترجیحات بدل گئیں۔
اس آدمی کی آواز شائد وہ آخری آواز ہے جو میری اور میری نسل کے لوگ کسی مسجد میں اس وقت سُن رہے ہوں گے اور میں ا’س آخری نسل میں سے ہوں جنہوں نے مسجدوں کو راتوں کو بھی آباد ”سنا” ہے۔ جب یہ آواز بھی خاموش ہو جائے گی تو اس کے بعد اس کی جگہ لینے والا کوئی نہیں ہو گا کیونکہ ہم وہ نسل ہیں جسے نیند بہت عزیز ہے۔ جنہیں اپنے شوہروں، بیٹوں اور بھائیوں کا آرام مسجد میںنمازیوں کی منتظر جماعت سے زیادہ پیارا ہے۔ ہم انہیں بے آرام کر کے مسجد نہیں بھیج سکتے ۔
میں فجر کی نماز پڑھتے ہوئے ہر روز اپنی مسجد سے جماعت کے لیے نمازیوں کو بلانے کے اعلان سنتی ہوں۔ بہت آہستہ آہستہ ہماری مسجدیں ویران ہو رہی ہیں۔ ہمارے پاس مسجدوں کو دینے کے لیے نمازی تک نہیں رہے۔ کیونکہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ ہم ساری رات انٹرنیٹ پر سوشل ویب سائٹس پر گزار سکتے ہیں۔ ہم مساجد کی اہمیت اور صحیح استعمال پر آرٹیکل لکھ سکتے ہیں ۔ مولویوں اور مساجد پر تنقیدی مقالے بھی لکھ سکتے ہیں لیکن ہم ا’ن مساجد کو اپنی زندگی کا ا’س طرح حصّہ بنانے پر تیار نہیں جس طرح فیس بک ، یوٹیوب، ٹی وی ،موبائل اور انٹرنیٹ ہما ری زندگی کا حصّہ ہیں۔
اور اس کے بعد ہم مسجد اور مولوی پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ مولوی کی کم علمی اور کم فہمی کا مذاق بھی ا’ڑاتے ہیں۔ ا’س کی تنگ نظری اور جہالت بھی ہمیں ناگوار گزرتی ہے……لیکن سچ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ جو مسجد کا دروازہ پانچ بار وقت پر کھل جاتا ہے یہ مولوی اور ا’س کی اولاد کی ہی وجہ سے ہے۔ وہ وہاں نہ رہ رہے ہوتے تو ہم پڑھے لکھے ۔ ذہین۔ قابل لوگ مسجدوں پر تالے ڈال دیتے۔ ہماری زندگیاں distinctions ، سکالرشپس، پروفیشنل ایکسیلنس اور achievements کے ستونوں پر کھڑی ہیں۔ مسجدوں کے میناروں کا ہم نے کیا کرنا ہے۔

مہر اور محرم

لو لیٹرز

!پیارے بھائی جان
آپ کی خیریت ہر وقت نیک مطلوب ہے۔
آپ سے گزارش ہے کہ آپ میری اولاد کو پیسے بھیجنا بند کر دیں تاکہ وہ خود عزت سے کمانا سیکھیں۔ آپ کے سارے پیسے امیر کھا جاتا ہے اور اپنے چھوٹے بھائی غریب کو کچھ نہیں دیتا۔ امیر کو سمجھائوں تو وہ اکڑنے لگتا ہے کہ وہ آپ کا لاڈلا ہے اور وہ جیسے چاہے اُس پیسے کو استعمال کرے۔ غریب اس پر کڑھتا رہتا ہے خاص طور پر تب جب امیر اُس کو پیسے کا حساب کتاب رکھنے کے لیے کہتا ہے۔
آپ ہر سال غریب کی حرکتیں دیکھ دیکھ کر امیر کے پیسے بھی بند کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ امیر اُس بات پر غریب سے اور بھی زیادہ نفرت کرنے لگا ہے۔
میں جانتا ہوں کہ یہ آپ کی محبت ہے کہ آپ صرف دھمکیاں دیتے ہیں پیسے بند نہیں کرتے لیکن آپ کی اس محبت نے میری اولاد کو تباہ کر دیا ہے۔ برائے مہربانی یہ پیسے بند کر دیں تاکہ امیر کی عیاشیاں ختم ہوں اور وہ غریب کے ساتھ مل کر عزت اور محنت کی روزی کمانا سیکھ لے۔
آخر میں ایک شکوہ ـــــ آپ ایبٹ آباد آئے اور ملے بغیر چلے گئے۔ اگلی بار آئے تو جانے نہیں دوں گا آپ کو ، کچھ دن کے لیے ہی سہی پر مہمان بنا کر رکھوں گا آپ کو۔

آپ کی سلامتی کے لیے 24 گھنٹے دُعا گو
آپ کا اکلوتا اور سوتیلا چھوٹا بھائی
پاکستان


میرے پیارے چھوٹے بھائی پاکستان
خیریت موجود خیریت مطلوب۔
تمہارا خط ملا ہمیشہ کی طرح پڑھ کر افسوس ہوا۔ پہلی بات تو یہ کہ ہمیشہ ہاتھ دھو کر خط لکھا کرو اس بار بھی جگہ جگہ چکنائی کے نشان تھے کاغذ پر لگتا ہے تم نے لوڈ شیڈنگ کے دوران خط لکھا ہے یا پھر کھانا کھا کر ہاتھ دھوئے بغیر خط لکھا ہے۔ تمہیں کتنی بار منع کیا ہے میں نے ہر بار تمہارا خط پڑھتے ہوئے مجھے دستانے پہننے پڑتے ہیں۔ اس بار تمباکو کی بو بھی آ رہی تھی میں دو منٹ دیر سے پہنچتا تو ٹومی تمہارے خط کا حشر کر دیتا۔ لگتا ہے تم نے پھر حقہ شروع کر دیا ہے اُسی سے منہ نکالا میں نے تمہارا خط تمہیں پتہ ہے کہ تمباکو کی بو کو میلوں دور سے سونگھ لیتا ہے اور تمہارے خط کے لفافے کو تو وہ گندی لکھائی اور داغ دھبوں کی وجہ سے وہ ہمیشہ ہی پہچان لیتا ہے۔ اُوپر سے تم اب بھی ٹکٹوں کو تھوک لگا کر لفافے پر چپکاتے ہو ٹومی سب سے پہلے ؟؟؟؟؟

پڑھ کر ہوا۔ یہ کیسی غیروں جیسی بات کی ہے تم نے کہ میں تمہیں پیسے نہ بھیجوں میں اگر تمہارا خیال نہیں رکھوں گا تو اور کون رکھے گا غصے میں اگر کبھی میں یہ کہہ دیتا ہوں کہ میں پیسے بند کر دوں گا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اس بات کو دل پر ہی لے لیا کرو۔ میں تمہارا بڑا بھائی ہوں بڑا بھائی باپ کی جگہ ہوتا ہے میں اگر کبھی ناراض ہو جایا کروں تو تم بس مجھ سے معافی مانگ کر منا لیا کرو جیسے تم شروع سے مناتے آ رہے ہو۔ یہ سعادت مندی کی علامت ہوتی ہے اور سعادت مند ہی بانصیب ہوتا ہے ورنہ ہمارے چچا کے بیٹے عراق کا حال دیکھ لو تم۔
جہاں تک امیر کے لاڈلا ہونے کی بات ہے تو اس میں میرا نہیں تمہارا قصور ہے میں نے تو غریب سے بھی بہت پیار کیا لیکن وہ بنیادی طور پر ہی احسان فراموش ہے کھا بھی لیتا ہے اور بکواس بھی کرتا رہتا ہے۔ امیر اس لحاظ سے مجھے پسند ہے کہ وہ کم از کم تمیز سے تو رہتا ہے میں اسی لیے امیر کو زیادہ اپنے پاس بلاتا رہتا ہوں۔ میرے پاس آ کر رہنے کی وجہ سے بھی امیر کے رکھ رکھائو اور اُٹھتے بیٹھنے میں بہت فرق آیا ہے۔ ٹومی اُس پر بھی بھونکتا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ امیر اپنے آپ کو ایک دن اتنا اچھا کر لے گا کہ وہ خود تو میرے گھر میں ٹومی کی طرح بھونک لے لیکن ٹومی اُس پر نہیں بھونکے گا۔
جہاں تک غریب کی بات ہے تمہیں اس کی تربیت کرنے کی ضرورت ہے یہ شریفانہ طور طریقے نہیں ہیں اُس کے۔ اپنے بڑے بھائی سے حسد اور جھگڑا اور بدتمیزی۔ میں تمہاری جگہ ہوتا تو ٹانگیں توڑ دیتا اُس کی، تم نے دیکھا یہی ہے میں نے اپنے بیٹے اسرائیل کی کیسی عمدہ تربیت کی ہے کہ ساری دنیا مثالیں دیتی ہے اُس کی، کیونکہ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ کھلائو سونے کا نوالہ لیکن دیکھو شیر کی نگاہ سے۔ اس لیے تمہیں میرا مشورہ ہے کہ غریب کو کام دھندے پر لگائو اور بدتمیزی کرے اس بار تو مجھے بلا لو۔ کچھ سال میں میں اس طرح سیدھا کروں گا اُسے کہ تمہیں بھی رشک آنے لگے گا اُس پر۔
تمہارا شکوہ جائز ہے کہ ایبٹ آباد آیا اور تمہیں بتایا بھی نہیں، پر کوئی بات نہیں اپنے گھر والی بات ہے اس بار نہیں تو اگلی بار سہی۔ یہ کوئی پہلا اور آخری چکر تھوڑی تھا مجھے پتہ ہے تم کنگلے ہو پر دل بہت بڑا ہے تمہارا۔ ریمنڈ بھی جب تمہارے پاس رہ کر واپس آیا تو بڑی تعریف کر رہا تھا تمہاری، کہہ رہا تھا ابا! اتنی عزت تو آپ نے نہیں کی جتنی چچا پاکستان اور اُس کے بڑے بیٹے امیر نے کی ہے۔
اور سنائو بیٹی بلوچستان کا کہیں رشتہ طے کیا؟ تم کہو تو میں کہیں بات چلائوں۔ ویسے تو میں نے پہلے ہی دو چار لوگوں سے کہہ رکھا ہے جتنی جلدی بیٹیاں اپنے گھر کی ہو جائیں اُتنا ہی اچھا ہے اور بیٹیاں تو ہوتی ہی پرایا دھن ہیں۔ بھارت اور افغانستان نے دو چار بڑے اچھے رشتے بتائے ہیں بلوچستان کے لیے اور میرا خیال ہے بلوچستان کی اپنی مرضی بھی ہے وہاں۔ تو تم اب ایک آدھ سال میں اس فرض کی ادائیگی کا بھی سوچو اور روپے پیسے کی فکر مت کرنا۔ خوب دھوم دھام سے رُخصت کریں گے بلوچستان بیٹی کو۔
خط کے ساتھ کچھ سامان بھیج رہا ہوں امیر کے لیے، اُس نے فرمائش کی تھی پیار اور دُعا بھی دینا اُسے اور غریب کو خط پڑھا دینا میری املا اور جوڑ توڑ کمزور ہیں اس کے کچھ وقت لگے گا اُس کو خط پڑھنے میں، لیکن سمجھ آ جائے گی اُسے۔
اور یہ بار بار اپنے آپ کو سوتیلا بھائی نہ کہا کرو، بس ”چھوٹا بھائی” کافی ہے۔

خیر اندیش اور درویش
تمہارا اکلوتا بڑا بھائی
امریکہ


!میرے پیارے امریکہ بھائی جان!
آپ کی خیریت نیک مقصود ہے۔
آپ کا خط پڑھ کر دل سے جیسے منوں بوجھ اُترا۔ آپ پر جو پیار آیا آپ کا بھیجا ہوا سامان دیکھ کر وہ الگ اور جو احترام محسوس کیا آپ کی ذات کے لیے اُس کا تو خیر شمار ہی کیا۔
اس بار خط باتھ رول ماتھے پر لپیٹ کر اور دستانے پہن کر لکھ رہا ہوں اور کاغذ پر آپ کا بھیجا ہوا Brute کا کلون بھی چھڑک لیا ہے میں نے۔ تو اس بار کاغذ پر جو داغ دھبے نظر آ رہے ہیں وہ کلون کے ہیں۔ میرے ہاتھوں کے میل چکنائی اور پسینے کے نہیں، مجھے اپنی اولاد سے زیادہ آپ کے ٹومی کی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رہتا ہے۔ اُمید ہے اس بار میرا خط دیکھ کر اُس کو کوئی دورہ نہیں پڑے گا۔ اس بار تو میں نے آپ کے بھیجے ہوئے پین سے آپ ہی کی بھیجی ہوئی سٹیشنری کو استعمال کرتے ہوئے خط لکھا ہے اور ٹکٹوں کو بھی تھوک کی بجائے آپ کے بھیجے ہوئے منرل واٹر سے چپکایا ہے۔ اُمید ہے آپ کے عزیز اور میرے عزیز ترین ٹومی کو اس بار کچھ نہیں ہو گا۔
آپ کے خط کے ساتھ آپ کا چیک بھی ملا لیکن وہ بائونس ہو گیا ہے بینک والوں نے 800 رُوپے کا جرمانہ کیا ہے مجھے، برائے مہربانی اگلے چیک کی رقم میں یہ 800 روپے بھی شامل کر کے دوبارہ چیک بھیجیں۔
میری آنکھوں میں آپ کا خط پڑھتے ہوئے مسلسل آنسو تھے اور دل سے ایسی ایسی دُعائیں نکل رہی تھیں آپ کے لیے کہ آپ کو لکھ بھی نہیں سکتا۔ اللہ نے آپ کو فرشتہ بنا کر بھیجا ہے بھائی جان، اپنے چھوٹے بھائی کے لیے ایسی محبت اور اُس کا ایسا خیال، آپ واقعی عظیم ہیں۔
میں نے امیر کو آپ کا سامان اور غریب کو آپ کا پیغام دے دیا تھا۔ اُس نے جواب میں آپ کی شان میں پھر گستاخی کی، ویسے می نے محلے کے مولوی صاحب سے بات کی ہے غریب کے لیے، وہ کہہ رہے ہیں کہ اُن کے مدرسے میں ڈال دوں تو اللہ کے فضل سے وہ مومن بن کر وہاں سے نکلے گا۔ ایک بااخلاق اور باکردار مومن کے کردار کی تو مجھے خیر کوئی اتنی پرواہ نہیں ہے لیکن اخلاق کی چونکہ آپ نے شکایت کی ہے اس لیے وہ تو ٹھیک کرنا ہی پڑے گا مجھے، کبھی کبھی مجھے یہ خیال آتا ہے کہ غریب کو آپ کے پاس بھیج دوں۔ آپ نے امیر کی ایسی اچھی تربیت کی ہے آپ تو غریب کی دُنیا بھی بدل دیں گے۔
بلوچستان کے رشتے کے حوالے سے آپ کی تشویش دیکھ کر آپ پر بڑا پیار آیا لیکن میں نے سوچا ہے بلوچستان کے لیے کوئی گھر داماد ہی ڈھونڈوں، وہ میرا دوست چین ہے نا اُس نے ایک دو اچھے رشتے بتائے ہیں کہہ رہا تھا جہیز بھی نہیں دینا پڑے گا اور لوگ بھی عزت کرنے والے ہیں (میں تو خیر جہیز کی وجہ سے رشتہ پر غور کر رہا ہوں عزت کی وجہ سے نہیں) تو اب آپ فکر مند نہ ہوں آپ نے اور بھارت نے پہلے بنگلہ دیش کا بھی رشتہ کرایا تھا تب سے میں نے توبہ کر لی ہے اس بار چین کا مشورہ ہی ٹھیک ہے۔
آپ کا اپنا گھر ہے یہ کوئی کہنے کی بات تھوڑی ہے آپ جب چاہیں آئیں رہیں آپ کو اُس سے زیادہ پیار اور عزت دیں گے جتنی افغانستان دیتا ہے۔
خط کے ساتھ سامان کی ایک اور لسٹ بھیج رہا ہوں یقین ہے کہ آپ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی شفقت فرمائیں گے۔
آپ کی درازی عمر کے لیے دُعا گو۔

آپ کا چھوٹا بھائی
پاکستان
نوٹ: (آپ کی فرمائش پر سوتیلا کا لفظ نکال دیا ہے میں نے)